اسرائیلی فوج نے حماس کے زیر انتظام علاقے غزہ سے سرحد پار کرنے والے ایک فلسطینی نوجوان کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کی جانب سے اسرائیل آنے کی کوشش کرنے والے ایک نہتے فلسطینی پر فائرنگ کر کے اسے جان سے مار دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کی ایک خاتون ترجمان کے مطابق فوجیوں کو شک تھا کہ یہ فلسطینی ان پر حملہ کرنے کی نیت سے آیا ہے جبکہ بعد میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فلسطینی کے پاس کسی قسم کا اسلحہ موجود نہیں تھا۔ وہ شخص سرحد پر غزہ کی جانب کھدائی کررہا تھا۔ ترجمان کے مطابق اس جگہ پر ماضی میں مسلح فلسطینی گھات لگا کر اسرائیلی فوجیوں پر حملے کرچکے ہیں۔
فوجی ترجمان کے مطابق وہ شخص اس کے بعد باڑ کو پھلانگ کر اسرائیل کی طرف آگیا اور اس کے ہاتھ میں کچھ ایسی چیز تھی جسے فوجی دور بین کے باوجود صحیح طریقے سے دیکھ نہیں پائے تھے۔ اس شخص کو واپس جانے کے احکامات کے علاوہ اسے ڈرانے کے لئے فائرنگ بھی کی گئی مگر جب وہ نہ رکا تو اس کے بعد اس پر فائرنگ کردی گئی۔
فوجی ترجمان کے مطابق اس شخص کی فوری شناخت نہیں ہو سکی ہے اور تلاشی کے بعد اس سے کسی قسم کا اسلحہ برآمد نہیں ہوا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
