اسرائیلی فوج نے نہتے فلسطینی مزدوروں پر شکاری کتے چھوڑنے کے اپنے عمل کو درست قرار دیا ہے۔ مقبوضہ فلسطین (نام نہاد اسرائیل) میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم بیٹسلم نے اس موقف کےخلاف اسرائیلی حکام سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور صہیونی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر مسلح فلسطینیوں پر شکاری کتوں کے ذریعے حملے کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے یہ اپیل شکاری کتوں کے فلسطینیوں پر چھوڑے جانے کے واقعے کے بعد کی گئی ہے۔ اس حملے میں اسرائیلی فوجی کتوں کے بھنبھوڑے جانے والے دو زخمی فلسطینیوں کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا تھا۔
تنظیم کی خاتون ڈائریکٹر جنرل جاسیکا مونٹول نے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی لیگل کونسل کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ شہریوں پر حملوں کے دوران ان پر شکاری کتے چھوڑنا ایک غیر اخلاقی اور ناجائز عمل ہے۔ اور اس طرح کے واقعات کی کسی بھی طرح حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی ہے جن کے بعد عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیل جائے اور ان کے زخمی ہونے کا خطرہ بھی ہو۔
یہ خط پندرہ مئی کو پیش آنے والے ایک واقعے کے رد عمل میں اسرائیلی فوج کو بھیجا گیا ہے۔ اس واقعے میں تین فلسطینی نوجوان نسلی دیوار کی مظہر دیوار کے قریب جا رہے تھے تاکہ وہاں سے مزدوری کی تلاش میں مقبوضہ فلسطین (نام نہاد اسرائیل) داخل ہوسکیں۔ دیوار کے قریب تعینات اسرائیلی فوجیوں کی نظروں میں آتے ہی ان نوجوانوں کے واپس بھاگنا شروع کر دیا جس پر اسرائیلی فوجی اہلکاروں نے ان پر ربڑ کی گولیاں برسانا شروع کردیں اور ان پر شکاری کتے بھی چھوڑ دیے، اس کارروائی میں ربڑ کی گولی لگنے سے ایک اور شکاری کتوں کے کاٹنے سے دو نوجوان زخمی ہوئے۔ ان دونوں کو شدید زخمی حالت میں عسقلان کے ”برزیلائی” ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
