فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ قابض اسرائیلی فوجیوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے قریب واقع ایک مکان کے مالک کو خود اپنے ہاتھوں سے بنا بنایا مکان مسمار کرنے پر مجبور کر دیا۔
صہیونی فوج کی موجودگی میں فلسطینی شہری کو اپنی جان بچانے کے لیے مکان مسمار کرنا پڑا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کے گروپوں اور مقامی فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ نضال دعنا نامی ایک شہری کو صہیونی فوجیوں کی جانب سے حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنا مکان خود ہی مسمار کردے کیونکہ اس نے یہ مکان حکومت کی اجازت کے بغیر تعمیر کیا ہے۔ دعنا کا مکان مسجد اقصیٰ کے باب السلسلہ کے قریب واقع تھا۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ نضال دعنا نے اپنی آبائی زمین پر مکان بنا رکھا تھا جو اس کا حق تھا۔ کیونکہ اس زمین پر اس کے آبائو اجداد پچھلے 1500 سال سے آبا چلے آ رہے تھے۔ یہاں پر ان کے آبائو اجداد کے مکانات بھی موجود تھے۔ اس لیے اس نے پرانے مکانات مسمار کر کے نیا مکان تعمیر کرکے کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا ہے۔
نضال کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ صہیونی حکام نے انہیں مکان مسمار کرنے کا حکم دیا تھا اور خلاف ورزی کی صورت میں 10 ہزار امریکی ڈالر کے مساوی رقم جرمانہ مقرر کیا گیا تھا۔ بھاری جرمانے اور صہیونی فوجیوں کے تشدد سے بچنے کے لیے انہیں مکان خود ہی مسمار کرنا پڑا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
