فلسطینی قانون ساز کونسل کے معلوماتی دفتر نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ تقریبا 60 اسرائیلی فوجی اور خفیہ ایجنسی کے اہلکار علی الصباح الارصل کے علاقے میں موجود گھر پر حملہ آور ہوگئے اور انہوں نے دو گھنٹے تک توڑ پھور کے بعد خالدہ جرار کو حراست میں لے لیا اور نامعلوم مقام پر چلے گئے۔
اس موقع پر فلسطینی اسیران سوسائٹی کے سربراہ قدورہ فارس نے خالدہ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے انتقام کا عمل قرار دے دیا۔ خالدہ جرار نے کئی ماہ قبل اسرائیلی فوج کی جانب سے بھیجے گئے اریحا سے بے دخلی کے نوٹس پر عمل نہیں کیا تھا اور خدشہ کیا جارہا ہے کہ یہ کارروائی اس کے ردعمل کا نتیجہ ہے۔
فارس نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ اسرائیلی حکام کے پاس خالدہ پر مقدمہ کرنے کے لئے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے مگر اس کے باوجود بھی ان کی حراست اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کا نمونہ ہے۔
قابض اسرائیلی فوج نے 20 اگست کو نوٹس پہنچایا تھا کہ خالدہ جرار کو اریحا شہر سے بے دخل کیا جارہا ہے کیوںکہ ان کی موجودگی سے علاقے کی سیکیورٹی کو خطرہ ہے اور اگر انہوں نے اس نوٹس پر عمل نہ کیا تو انہیں حراست میں لیا جاسکتا ہے۔
جرار نے رام اللہ کے مشرقی قصبے بیتونیہ میں ایک اسرائیلی فوجی عدالت میں اس حکمنامے کے خلاف درخواست دائر کی ہوئی تھی۔
انہوں نے رام اللہ میں فلسطینی قانون ساز کونسل کے باہر اس فوجی حکم کے خلاف دھرنا دیا تھا۔ ان کی حراست کے نتیجے میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قانون ساز کونسل کے ممبران کی تعداد 16 ہوگئی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
