اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے سے رکن پارلیمان ڈاکٹر محمد الرمحی کو جنوبی نابلس میں حاوارہ کے مقام پر حراست میں لے لیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے نمائندہ نابلس نے حماس کے شعبہ پارلیمانی امور کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ الرمحی اپنی کار میں اہل و عیال کے ہمراہ نابلس سے اپنی ہمشیرہ کو مل کر واپس لوٹ رہے تھے کہ انہیں صہیونی فوجیوں نے گرفتار کر لیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے نمائندہ نابلس نے حماس کے شعبہ پارلیمانی امور کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ الرمحی اپنی کار میں اہل و عیال کے ہمراہ نابلس سے اپنی ہمشیرہ کو مل کر واپس لوٹ رہے تھے کہ انہیں صہیونی فوجیوں نے گرفتار کر لیا۔
ناکے پر اسرائیلی فوجی اہلکاروں نے الرمحی کی شناخت دیکھنے کے بعد انہیں بتایا کہ وہ حراست میں ہیں۔ انہوں نے الرمحی کے ساتھ سفر کرنے والے اہل خانہ کو ہدایت کی وہ گاڑی سے اپنی چیزیں نکال لیں اور کسی عزیز کو بلوا لیں تاکہ وہ انہیں ہمراہ لے جائے کیونکہ الرمحی کو ان کی گاڑی سمیت سرکاری تحویل میں لینے کے احکامات ہیں۔
یاد رہے کہ محمود الرمحی فلسطینی قانون ساز اسمبلی کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ وہ پہلی انتفاضہ کے دوران سات برس پابند سلاسل رہے۔ اسرائیل نے انہیں رکن اسمبلی بننے کے بعد 70 ماہ قید کی سزا سنائی تھی، تاہم انہیں ستمبر میں دس ماہ تک بغیر کسی مقدمے کے قید رکھنے کے بعد اسرائیلی حکام نے رہا کر دیا تھا۔
