قابض اسرائیلی فوج نے رام اللہ کے شمالی علاقے عین سینیا میں کام کرنے والے الخلیل کے ایک فلسطینی نوجوان کو گولی مار کر شہید کردیا۔
20 سالہ محمد محمود مبارک کے عزیزوں نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ قابض اسرائیلی فوج نے نوجوان پر بغیر کسی وارننگ کے ہی فائرنگ کردی۔انہوں نے بتایا کہ محمد محمود عین سینیا کی مین روڈ کی مرمت کا کام کررہا تھا کہ اس دوران قریبی علاقے اور فوجی چوکیوں میں تعینات اسرائیلی فوجیوں نے ان پر فوجی املاک پر فائرنگ کرنے کا الزام لگا کر اس پر فائرنگ کردی۔
ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے ممبر پارلیمان احمد مبارک کے اس شہید بھتیجے کا جسد خاکی فلسطینی رابطہ دفتر کے حوالے کردی ہے۔
مغربی کنارے میں اس سے پہلے بھی درجنوں فلسطینیوں کو ایسے واقعات میں قتل یا زخمی کردیا گیا ہے جہاں اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ قابض فوجی بندوق یا تیز دھار آلے سے حملے کی کوشش کو ناکام بنا رہے تھے۔
