اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی پکڑ دھکڑ جاری رکھتے ہوئے بدھ کے روز مزید 07 افراد کو حراست میں لیے لیا ہے جن میں حماس کے معروف رہنما شیخ جبریل الجیاوی اور تین سگے بھائی بھی شامل ہیں۔
الخلیل کے اذنا ٹاؤن کے شہریوں نے شیخ جبریل الجیاوی کی گرفتاری کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فورسز کے اہلکاروں نے فجر کے وقت ان کے گھر پر حملہ کیا، تمام گھر والوں کو ایک کمرے میں بند کرنے کے بعد اہلکاروں نے سارے گھر کی تلاشی لی، بڑے پیمانے پر سامان کی توڑ پھوڑ کی گئی، گھر میں موجود چھوٹی سے چھوٹی چیز کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
ادھر سکیورٹی اہلکاروں نے الخلیل شہر کے العروف کیمپ پر بھی دھاوا بولا اور یہاں سے دو نوجوانوں ایھاب جہاد عدوی اور عبد اللہ محمد ابو ریا کو گرفتار کرلیا، دونوں کی عمریں 21 ، 21 سال تھیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گھروں کی تلاشی کے عمل میں اسرائیلی فوجیوں نے شکاری کتوں کو بھی استعمال کیا، متعدد گھروں کے دروازے توڑ دیے گئے۔ اسرائیلی فوج نے الخلیل کے متعدد علاقوں پر حملے کرکے اسی طرح کی کارروائیاں کی ہیں۔ بیت امر ٹاؤن، دورا ٹاؤن اور دیگر علاقوں میں کی گئی یہ کارروائیاں مطلوب افراد کی تلاش میں کی گئیں۔
دورا ٹاؤن میں اسرائیلی فوج کے حملے کے بعد فلسطینی نوجوانوں نے رد عمل کا مظاہرہ کیا اور ان پر پتھراؤ شروع کردیا جس کے بعد باقاعدہ جھڑپیں شروع ہوگئیں۔
مغربی کنارے کے ایک دوسرے شہر طوباس کے طمون ٹاؤن پر بھی ہلہ بولا گیا اور اسرائیلی فوج نے نواف فھد بنی عودہ نامی فلسطینی، جس کی عمر 24 سال ہے، کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے قریب ہی واقع الفارعہ کیمپ پر بھی دھاوا بولا اور یہاں پر ایک فوجی چیک پوسٹ قاسم کرکے گزرنے والے فلسطینی شہریوں کی تلاشی لینا شروع کردی۔
بدھ کے روز علی الصباح جنین شہر کے جنوب میں بھی ایک عسکری چیک پوسٹ قاسم کرکے فلسطینی کی نقل و حرکت کو محدود کردیا گیا، اسرائیلی اہلکاروں نے المغیر گاؤں میں گھس کر مختلف گھروں پر چھاپے بھی مارے۔ مقامی افراد نے بتایا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کے ہمراہ صہیونی فوجیوں نے مختلف تجارتی مراکز اور گھروں پر چھاپہ مار کارروائیاں کیں اس دوران فلسطینیوں سے تفتیش کی جاتی رہی۔
جنین تا نابلس شاہراہ پر تین چیک پوسٹیں قائم کی گئیں۔ ایک چیک عرب امریکی یونیورسٹی کے احاطے میں ، دوسری شہداء چوک پر اور تیسری سیاحتی گاؤں حداد میں قائم کی گئی، ان چیک پوسٹوں پر طلبہ اور عام شہریوں کو روک کر زدوکوب کیا جاتا رہا۔
اسرائیلی فوج نے الخلیل کے جنوبی مغربی علاقے دیر ٹاؤن میں غزہ کی جانب بے دخل کیے گئے معروف فلسطینی رہنما ایمن شراونہ کے گھر پر بھی حملہ کیا اور ان کے بھائی جہاد الشراونہ کو گرفتار کرنے کی کوشش کی مگر وہ اس وقت گھر میں موجود نہ تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ فوج نے ایمن شراونہ کے گھر والوں کو علی الصبح خبر دار کیا تھا کہ وہ جہاد الشراونہ کو فوج کے حوالے کردیں۔ اسی طرح اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے ایک اہلکار نے گھر والوں سے جہاد کا فون نمبر بھی مانگا تھا۔ جہاد الشراونہ کو دو ماہ قبل ہی اسرائیلی قید سے رہائی ملی تھی۔
نابلس میں بھی اسرائیلی جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں یہاں یاصید گاؤں پر حملہ کرکے متعدد گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور بزرگ شہری کو گرفتار کرلیا گیا۔ ذرائع کے مطابق گرفتار کیے جانے والے اٹھاون سالہ محمود ظاہر کو ان کے گھر سے اٹھایا گیا اور تفتیش کے لیے نامعلوم مقام منتقل کردیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
