فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں قابض اسرائیلی فوج اور مشتعل فلسطینی مظاہرین کے مابین خونریز تصادم کی اطلاعات ہیں،جن کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کےزخمی ہونے کی خبریں ملی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ جھڑپیں مغربی کنارے کے مرکزی شہر رام اللہ اور مقبوضہ بیت المقدس کے شمالی علاقوں میں ہوئیں۔
عینی شاہدین نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کو بتایا کہ جمعہ کے روز شمالی بیت المقدس میں الرام کے مقام پر فلسطینیوں نے ایک احتجاجی جلوس نکالا۔ دوسرا احتجاجی مظاہرہ مغربی کنارے کے شہررام اللہ میں ہوا۔ دونوں مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر اشک آور گیس کی شیلنگ کی اورلاٹھی چارج کیا۔ وحشیانہ انداز میں ہوئے لاٹھی چارج کے نتیجے کئی افراد زخمی ہوئے۔ مشتعل مظاہرین نے جوابا صہیونی فوجی گاڑیوں پر سنگ باری کی۔ مظاہریں دشمن کے خلاف تیسری عوامی انتفاضہ کی حمایت کے لیے نعرے لگا رہے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق رام اللہ میں نکالی گئی ریلی پر اسرائیلی فوجیوں نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی ہے، جس کے نتیجے میں کم سے کم سات افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے چار کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔ بیشتر مظاہرین کو گولیاں ان کی ٹانگوں میں ماری گئیں۔ صہیونی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف فلسطینیوں نے جوابی کارروائی میں سنگ باری کی، جس کے نتیجے میں ایک یہودی فوجی کے زخمی ہونے کی خبریں ملی ہیں، جسے فوری طورپر ایمبولینس میں ڈال کر اسپتال لے جایا گیا۔
رام اللہ ہی میں اسرائیل کی عوفر سینٹرل جیل کے باہر فلسطینی نوجوانوں اور قابض فوج کے درمیان تصادم میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہاں بھی مظاہرین نے اسرائیلی فوج پر پتھراؤ کیا۔ جبکہ صہیونی فوج نے ان پر گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
