فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے 10 مارچ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اردن کے جج جسٹس رائد زعیتر پر قاتلانہ حملے میں شہادت پر صہیونی فوج کو قصور وار قرار دیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم”الحق” کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے جسٹس رائد پر حملہ اسرائیلی فوج کی دانستہ کارروائی تھی اور قابض فوجیوں نے عمداً اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شہید کیا ہے۔
خیال رہے کہ رواں ماہ کی 10 تاریخ کو صہیونی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کی الکرامہ گذرگاہ پر فائرنگ کر کے اردن کے جج جسٹس رائد زعیتر کو شہید کر دیا تھا۔ جسٹس رائد مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اپنے اہل خانہ سے ملنے آ رہے تھے۔ قتل کی اس گھناؤنی واردات کے بعد صہیونی فوج نے موقف اختیار کیا تھا کہ جسٹس رائد کو غلطی سے گولی لگی تھی۔
فوجیوں کو بتایا گیا تھا کہ ایک فلسطینی مزاحمت کار اسرائیلی فوجیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ گولیوں کا نشانہ بننے والا کوئی فلسطینی مزاحمت کار نہیں بلکہ اردن کی ایک عدالت کا سینیئر جج ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم”الحق” کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے محققین نے غیرجانب داری کے ساتھ چھان بین اور تحقیقات کی ہیں، جن کے بعد یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ جسٹس رائد زعیتر کو اسرائیلی فوج نے دانستہ طور پر گولیوں کا نشانہ بنایا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کو معلوم تھا کہ جسٹس زعیتر کے پاس کوئی ہتھیار نہیں۔ ان سے اسرائیلی فوجیوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے یہ بات قطعی بے بنیاد ہے کہ جسٹس زعیتر کو دور سے گولی ماری گئی۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اردنی جج کو تین میٹر کے فاصلے سے گولیاں ماری گئی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگریہ بات فرض کر لی جائے کہ اسرائیلی فوجیوں کو جسٹس زعیتر سے کوئی خطرہ لاحق تھا تو اسے زخمی کر کے گرفتار کیا جا سکتا تھا لیکن اسرائیلی فوجیوں نے نہایت قریب سے آٹومیٹک گن کی مدد سے جسٹس رائد کے چہرے اور سر پر گولیاں ماری گئیں۔ جس سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ صہیونی فوجیوں نے دانستہ طور پر اردنی جج کو گولیاں ماریں اور انہیں شہید کرنے کی نیت سے مارا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
