• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

اسرائیلی فوج اردنی جج کے قتل میں قصور وار قرار

جمعرات 20-03-2014
in فلسطین
0
plf judge
0
SHARES
0
VIEWS

 

فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم  نے 10 مارچ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اردن کے جج جسٹس رائد زعیتر پر قاتلانہ حملے میں شہادت پر صہیونی فوج کو قصور وار قرار دیا ہے۔

 
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم”الحق” کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے جسٹس رائد پر حملہ اسرائیلی فوج کی دانستہ کارروائی تھی اور قابض فوجیوں نے عمداً اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شہید کیا ہے۔
 
خیال رہے کہ رواں ماہ کی 10 تاریخ کو صہیونی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کی الکرامہ گذرگاہ پر فائرنگ کر کے اردن کے جج جسٹس رائد زعیتر کو شہید کر دیا تھا۔  جسٹس رائد مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اپنے اہل خانہ سے ملنے آ رہے تھے۔ قتل کی اس گھناؤنی واردات کے بعد صہیونی فوج نے موقف اختیار کیا تھا کہ جسٹس رائد کو غلطی سے گولی لگی تھی۔

فوجیوں کو بتایا گیا تھا کہ ایک فلسطینی مزاحمت کار اسرائیلی فوجیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ گولیوں کا نشانہ بننے والا کوئی فلسطینی مزاحمت کار نہیں بلکہ اردن کی ایک عدالت کا سینیئر جج ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم”الحق” کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے محققین نے غیرجانب داری کے ساتھ چھان بین اور تحقیقات کی ہیں، جن کے بعد یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ جسٹس رائد زعیتر کو اسرائیلی فوج نے دانستہ طور پر گولیوں کا نشانہ بنایا۔
 
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کو معلوم تھا کہ جسٹس زعیتر کے پاس کوئی ہتھیار نہیں۔ ان سے اسرائیلی فوجیوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے یہ بات قطعی بے بنیاد ہے کہ جسٹس زعیتر کو دور سے گولی ماری گئی۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اردنی جج کو تین میٹر کے فاصلے سے گولیاں ماری گئی ہیں۔
 
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگریہ بات فرض کر لی جائے کہ اسرائیلی فوجیوں کو  جسٹس زعیتر سے کوئی خطرہ لاحق تھا تو اسے زخمی کر کے گرفتار کیا جا سکتا تھا لیکن اسرائیلی فوجیوں نے نہایت قریب سے آٹومیٹک گن کی مدد سے جسٹس رائد کے چہرے اور سر پر گولیاں ماری گئیں۔ جس سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ صہیونی فوجیوں نے دانستہ طور پر اردنی جج کو گولیاں ماریں اور انہیں شہید کرنے کی نیت سے مارا گیا۔

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.