زکریہ کی آنکھ کو اس وقت شدید چوٹ آئی جب وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ کیمپ میں موجود اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم انروا کے سکول سے پڑھ کر نکل رہے تھے اور ایک اسرائیلی نشانہ باز اہلکار نے بلا کسی جواز کے ان پر گولیاں چلانا شروع کردیں۔
فائرنگ والے علاقے میں کوئی پرتشدد واقع پیش نہیں آیا تھا اور نہ ہی اسرائیلی فوجیوں پر پتھرائو کیا گیا تھا جس کی وجہ سے یہ فائرنگ کی جاتی۔
اس واقعہ کے بعد زکریہ کو فوری طور پر ھداسہ ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں پر فوری طور پر ان کی بائیں آنکھ سے گولی نکالنے اور خون بہنے سے روکنے کے لئے سرجری کی گئی۔
خاندان کے مطابق اسرائیلی پولیس نے واقعہ کی تفتیش کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ فائرنگ کے وقت کیمپ اور اس کے ناکے پر حالات پر امن تھے۔
مگر اس سب کے باوجود ابھی تک اس واقعہ کی ذمہ دار پولیس اہلکار کو حراست میں نہیں لیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
