اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے مقبوضہ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والی ایک فلسطینی خاتون کو صہیونی فوجی پر تیزدھار آلے سے حملے کےالزام میں دو سال قید با مشقت کی سزا سنائی ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے صہیونی عدالت کی سزاء کو غیرمنصفانہ اور ظالمانہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم” یکجہتی فاؤنڈیشن برائے عالمی انسانی حقوق” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں "سالم” فوجی عدالت نے مغربی کنارے کے شہرنابلس کی رہائشی آلاء ابو زتیون کو دو سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔ آلاء پر الزام ہے کہ اس نے گشت میں مصروف ایک یہودی فوجی پرخنجرسے حملے کی کوشش کی تھی۔
خیال رہے کہ صہیونی فوجیوں نے آلا ابو زیتون کو نوفروری 2012ء کو حراست میں لیا جس کے بعد اسے نابلس ہی میں اسرائیلی فوج کے حوارہ تفتیشی سینٹر میں رکھا گیا تھا۔
ادھر ایک دوسری پیش رفت میں بیت لحم سے تعلق رکھنے والی ھبہ ابو رزق کو چار ماہ کی حراست کے بعد رہا کردیا ہے۔ ھبہ پر بھی صہیونی فوجی پر خنجر سے حملے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
