عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے بدھ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں احتجاج کرنے والے مظاہرین پر اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں اور ان کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوجیوں نے زیاد ابو عین کو اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا تھا۔انھیں شدید زخمی حالت میں اسپتال لے جایا جا رہا تھا لیکن وہ راستے ہی میں دم توڑ گئے۔
انھوں نے بتایا ہے کہ فلسطینی کمیٹی برائے مزاحمت یہودی بستیاں سے تعلق رکھنے والے کارکنان اور بعض غیر ملکی ایک اسرائیلی بستی کے نزدیک احتجاج اور زیتون کے پودے لگانے کے لیے جا رہے تھے۔انھیں اسرائیلی فوجیوں نے ایک چیک پوائنٹ پر روک لیا،ان پر اشک آور گیس کے گولے برسائے اور پھر وہ مظاہرین کے ساتھ گتھم گتھا ہو گئے۔
یہ واقعہ فلسطینی گاؤں ترمسعیا کے نزدیک پیش آیا ہے۔ وہاں سے زیادہ ابو عین کو ایمبولینس کے ذریعے رام اللہ منتقل کیا جارہا تھا لیکن وہ راستے ہی میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ اسپتال کے ڈائریکٹر احمد بیتاوی نے بتایا ہے کہ ابو عین کی موت چھاتی پر چوٹیں آنے کے نتیجے میں ہوئی ہے۔
شہید ابو عین فلسطینی اتھارٹی کے اسرائیلی یہودی بستیوں اور غرب اردن میں علاحدگی کی دیوار سے متعلق امور کے محکمے کے سربراہ تھے اور ان کا عہدہ وزیر کے برابر تھا۔قبل ازیں وہ قیدیوں سے متعلق امور کے نائب وزیر رہ چکے تھے۔
فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح کے ایک سرکردہ نما محمود العول کا کہنا ہے کہ وہ اور ابو عین دسیوں دوسرے افراد کے ساتھ مل کر اسرائیل کے زیر قبضہ اراضی پر امن کی علامت زیتون کے پودے لگانے کے لیے جارہے تھے۔اس دوران اسرائیلی فوجیوں نے انھیں روک کر تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
