اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کی مقبوضہ مغربی کنارے میں غنڈہ گردی بدستور جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق کل بدھ کو شدت پسند یہودیوں اور اسرائیلی فوج نے الگ الگ اوقات میں الخلیل شہر کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔ الخلیل شہر میں بدھ کو علی الصباح راس الجورہ کے مقام پر دسیوں اسرائیلی فوجی داخل ہوئے کو کئی گھنٹے تک لوگوں کے گھروں کی تلاشی لیتے رہے۔ ادھر الخلیل میں حلحول کے قریب النبی یونس کے مقام پر مذہبی رسومات کی ادائی کے لیے یہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔ مذہبی رسومات کی آڑ میں یہودی آباد کار فلسطینی آبادی میں کھلے عام گھومتے رہے۔
عینی شاہدین نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ اسرائیلی فوجی چھ بسوں میں سوار تھے جو وسطی اسرائیل میں اترے اور راس الجورہ کے مقام پر شہریوں کی تلاشی کا سلسلہ شروع کردیا۔ دو ہفتے قبل یہودی آباد کاروں کی گم شدگی کے بعد یہ علاقہ اسرائیلی فوج گردی کا سب سے زیادہ نشانہ بنا ہوا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہودی آباد کاروں کے ایک گروپ نے بھی حلحول کے مقام میں النبی یونس کے قریب دھاوا بولا۔ بعد ازاں یہ یہودی اسی جگہ مذہبی رسومات ادا کرتے دیکھے گئے۔ اس موقع پر یہودی فوج اور پولیس کی جانب سے انتہا پسند یہودیوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔
