اسرائیل کی فضائی کمپنی‘‘العال’’ نے مصرکے لیے اپنی پروازیں روکنے پرغور شروع کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ قاہرہ کے لیے پروازیں خسارے میں جا رہی ہیں۔ ایسا سنہ 1979ء میں دونوں ملکوں کے
درمیان طے پائے کیمپ ڈیوڈ امن معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ مصرسے اسرائیل آنے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی فضائی کمنپی’’ال عال’’ کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے وزیرخارجہ آوی گیڈولائبرمین کو ایک مراسلے میں بتایا ہے کہ مصر کے لیے ان کی پروازوں کے سیکیورٹی کی مد میں آنے والے اخراجات بھی سالانہ لاکھوں ڈالرز تک جا پہنچے ہیں، جبکہ قاہرہ اور تل ابیب کے درمیان سفر کرنے والے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر رہ گئی ہے۔ ایسے میں ان پروازوں کا سلسلہ جاری رکھنا کمپنی کے لیے خسارے کا باعث بن رہا ہے۔
کمپنی کے ڈائریکٹر الیعذر چکیدی کا کہنا ہے کہ اگر وزارت خارجہ نے پراویں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تو وہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائیں گے جو مصرکے لیے پروازوں پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ لگائے گی اور اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کرے گی۔ دوسری جانب صہیونی وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ حکومت قاہرہ کے لیے اپنی فضائی سروس بند کرنے پرغور نہیں کر رہا ہے تاہم اگر کمپنی خسارے میں ہوئی تو ایسا کرنا پڑے گا۔ البتہ فی الحال حکومت مصر اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کے استحکام کے لیے اپنی فضائی سروس کو ہونے والا نقصان براداشت کرے گا۔ کیونکہ فضائی سروس کا تسلسل مصر سے زیادہ اسرائیل کے مفاد میں ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
