انسانی حقوق کی ایک عالمی تنظیم نے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیلی حکومت اورقابض ریاستی اداروں کی فلسطینی تعلیمی اداروں کے خلاف جاری غنڈہ گردی کی ایک تازہ رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قابض صہیونی حکومت نے رواں سال کی پہلی ششماہی میں مغربی کنارے اور بیت المقدس میں کم سے کم سات اسکولوں پرحملے انہیں کلی یا جزوی طورپر نقصان پہنچایا۔ بعض اسکولوں کو یہودیوں کے مقاصد اور مفادات کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا گیا۔
رپورٹ میں مغربی کنارے کے شمالی شہر قلقیلیہ میں بیت امین اسکول کی تازہ مثال بیان کی گئی ہے۔ قابض اسرائیلی فوج نے حال ہی میں اس اسکول کی توڑ پھوڑ کی اور اس کے ایک حصے کو یہودیوں کے دفاع کے لیے تعمیر کی جانے والی نسلی دیوار میں شامل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق قلقیلیہ کا بیت امین اسکول پہلا تعلیمی ادارہ نہیں جو صہیونی غنڈہ گردی کا نشانہ بنا ہو بلکہ اس سال کا ساتواں اسکول ہے جو قابض فوج اور صہیونی جارحیت کا نشانہ بنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حال ہی میں موسم گرما کی تعطیلات ہوتے ہی اسکول کو خالی دیکھ کرصہیونی فوج بلڈوزر لے کراسکول میں داخل ہوگئی۔ اسکول کے عقبی حصے کو بلڈوز کردیا گیا تاکہ وہاں پر نسلی دیوار کی تعمیر کا عمل شروع کیا جاسکے۔
رپورٹ کے مطابق قابض فوج نے نہ صرف اسکول کی عقبی دیوار گرادی بلکہ اس سے ملحقہ باغ میں سیکڑوں درخت اکھاڑ پھینکے اور دو دونوم اراضی پر قبضہ کرکے اسے نسلی دیوار کے لیے مخصوص کردیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج بیت امین اسکول کے قریب نہ صرف نسلی دیوار کی تعمیر کررہی ہے بلکہ قلقیلیہ کے جنوب مغرب میں قائم کردہ ایک "شعار تکفا” نامی یہودی کالونی کے لیے سڑک کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال اسرائیلی فوج کی جارحیت کا نشانہ بننے والے دیگر اسکولوں میں پرائمری اور مڈل سطح کے اسکول شامل ہیں۔ زیادہ تر حملے رام اللہ، نابلس، الخلیل اور بیت المقدس کے اسکولوں پر کیے گئے۔ کئی اسکولوں کے طلباء کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں نام نہاد الزامات کے تحت پولیس کے تفتیشی مراکز میں رکھا گیا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
