’خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان طے پائے سمجھوتے میں غرب اردن کے سیکٹر’’سی‘‘ لا انتظامی اور سیکیورٹی کنٹرول صہیونی انتظامیہ کی نگرانی میں دیا گیا ہے۔ اسرائیل کی عدالت کی جانب سے پہلی بار کسی ایسی درخواست کی سماعت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غرب اردن کی دیر الرفایعہ نامی فلسطینی قصبے کی جانب سے سنہ 2011 ء میں اسرائیلی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں غرب اردن کے سیکٹر ’’ C ‘‘ میں فلسطینیوں کو مکانات کی تعمیر کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم اسرائیلی عدالت نے فائل داخل دفتر کردی تھی۔ حال ہی میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دوبارہ اس درخواست پر سماعت کی اپیلیں دائر کی گئیں جس کےبعد عدالت نے درخواست پر غور کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل کے سیکیورٹی کنٹرول میں آنے کی وجہ سے فلسطینیوں کو ان مقامات پر تعمیرات کی اجازت دینے سے روک دیا گیا تھا تاہم اب یہ مسئلہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے ایجنڈے میں بھی شامل ہوسکتا ہے۔
اسرائیل کے عبرانی اخبار’’ہارٹز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے صہیونی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ غرب اردن کے سیکٹر’’سی‘‘ میں تمام تر انتظامی کنٹرول اسرائیلی فوج کے پاس ہے اور فلسطینی آبادی کی نمائندگی بالکل بھی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی وزارت ہائوسنگ کی جانب سے فلسطینیوں کو اس سیکٹرمیں تعمیرات کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ آبادی میں تیزی کے ساتھ اضافے کے باعث فلسطینیوں کو مزید تعمیرات کی اشد ضرورت ہے۔
اخباری رپورٹ کے مطابق حال ہی میں اسرائیلی عدالت نے حکومت کو 90 روز میں اپنی تجاویز اور اعتراضات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت سیکٹر’’سی‘‘ میں فلسطینی اور یہودی آبادیوں کے مشترکہ راستوں کا تفصیلی نقشہ بھی تیار کرے تاہم فی الحال فلسطینیوں کو مکانات کی تعمیر کا اختیار نہیں دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ جلد ہی اپنا فیصلہ سنائے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
