فلسطینی متعلقہ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی سپریم کورٹ نے چھیاسٹھ روز سے صہیونی عقوبت خانے میں بھوک ہڑتال جاری رکھنے والے فلسطینی اسیر رہنما شیخ خضر عدنان کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم دوسری جانب اسیران کی فلسطینی فورم نے اس خبر کی تردید کی ہے۔
منگل کے روز ذرائع نے ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے نمائندے کو بتایا کہ اسرائیلی عدالت نے اپنی انتظامی حراست کے خلاف بھوک ہڑتال کرنے والےشیخ خضر عدنان کی انتظامی حراست کو غلط قرار دیتے ہوئے رہا کرنے کی ہدایت کردی ہے۔عدالت نے اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے آئندہ چار اپریل تک شیخ عدنان کو حراست میں رکھنے کی دلیل کو واضح طور پر مسترد کر دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ عدالت کے احکامات پر عمل کے حوالے سےشیخ عدنان کی درخواست پر جنین کے گاؤں عرابہ میں ان کے گھر کے باہر مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے ایک نیوز کانفرنس بھی کی جائے گی۔ اسی ضمن میں رام اللہ میں اسیران امور کی وزیر عیسی قراقع نے بتایا کہ اپنی رہائی کے فیصلے کے بعد شیخ عدنان نے بھوک ہڑتال بھی ختم کر دی ہے۔
خیال رہے کہ بھوک ہڑتالی اسیر رہنما شیخ عدنان کی رہائی کے لیے رام اللہ کے قریب عوفر جیل کے باہر احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔ ان کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے بیت لحم اور الخلیل میں بھی مظاہرے کیے جا رہے تھے۔
دوسری جانب اسیران امور کی فورم نے شیخ عدنان کی رہائی کےفیصلے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں کورٹ کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں آیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

