فلسطین میں انسانی حقوق کی اداروں کے مطابق صہیونی جیل میں تشدد کا شکار ایک فلسطینی قیدی کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ بات کرنے کی سکت نہیں رکھتا تھا۔ عدالت میں کھڑے کھڑے وہ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ جس کے بعد اسے فوری طور پر ایک فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم”یکجہتی فاؤنڈیشن” کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی اسیر شادی محمد عواد کے وکیل مازن ابو عون نے بتایا کہ اس کے موکل کو جمعہ کے روز سالم عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں وہ کھڑے کھڑے بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ عدالت کےحکم پر فوری طور پر طبی عملہ بلایا گیا جس کی مدد سے اسے نابلس کے ایک اسپتال لے جایا گیا ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق فلسطینی قیدی کو ہوش آ چکا ہے تاہم وہ فی الحال زیرعلاج ہے۔
ابو عون نے بتایا کہ جب اس کے موکل کو عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت میں لوگوں کا رش تھا۔ کئی قیدی پچھلے دس گھنٹے سے عدالت کےاحاطے میں پیشی کے انتظار میں بیٹھے تھے لیکن انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا جا رہا تھا۔ محمد عواد کو بھی کئی گھنٹے تک کھڑا رکھا گیا۔ اسے جیل میں وحشیانہ تشدد کابھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ عدالت میں سخت سردی کے ماحول میں اسے کھڑے رکھا گیا۔ جس کے نتیجے میں اس کی حالت مزید خراب ہو گئی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
