.اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے زیرحراست فلسطینی رُکن پارلیمنٹ عماد محمود نوفل کے مقدمہ کی سماعت انتیس جنوری تک ملتوی کردی ہے
خیال رہے کہ فلسطینی رکن اسمبلی پر الزام ہے کہ وہ فلسطینی گروپوں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] اور الفتح کے درمیان مفاہمت کرانے کی کوششیں کر رہے تھے۔ فلسطین میں قیدیوں کے حقوق کے لیے سرگرم اسٹڈی سینٹر برائے حقوق اسیران کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ عماد محمود نوفل کو اتوار کے روز مقبوضہ فلسطین میں قائم ’’سالم‘‘ فوجی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر محروس فلسطینی سیاست دان کی اہلیہ بھی عدالت میں پیش ہوئیں۔
مقدمہ کی سماعت محض دس منٹ تک جاری رہی۔ سماعت کے دوران صہیونی فوج کی بڑی تعداد بھی موقع پرموجود تھی۔ جج نے اسیر کی اہلیہ کو کچھ کہنے کا اشارہ کیا لیکن اس موقع پر تعینات فوجی پراسیکیوٹر جنرل نے خاتون کو اپنے شوہر کے حق میں عدالت کو کوئی بیان ریکارڈ کرانے سے روک دیا۔ جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ماہ کے آخر تک ملتوی کردی۔خیال رہے کہ عماد محمود نوفل کو صہیونی فوجیوں نے مغربی کنارے کے شہر قلقیلیہ سے تئیس نومبر کو حراست میں لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد انہیں فلسطینیوں کے درمیان مفاہمتی مساعی کے الزام میں انتظامی حراست میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بعد ازاں ان پر اسی الزام کے تحت مقدمہ کی کارروائی بھی شروع کردی گئی تھی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
