اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے نوجوان فلسطینی صحافی عامر ابو عرفہ کو تیسری مرتبہ غیر معینہ مدت کے لیے انتظامی حراست میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب
فلسطینی سیاسی ، مذہبی، سماجی اور صحافتی حلقوں نے صہیونی عدالت کے فیصلے کو غیرمنصفانہ قرار دے کر مستر کر دیا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگاروں کے مراسلوں کےمطابق عامر ابو عرفہ کو صہیونی فوج نے ایک سال پیشتر مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل سے ان کے گھر سے حراست میں لیا تھا۔ حراست میں لیے جانے کے بعد اسے صحرائے نقب کی فوجی جیل میں رکھا گیا جہاں اس کےخلاف خفیہ مقدمہ چلانے کی کارروائی بھی کی گئی۔ اس دوران اسرائیلی فوجی عدالتیں عامر کو انتظامی حراست میں رکھنے کی سزا دیتی رہیں لیکن ان کے خلاف کوئی واضح مقدمہ نہیں چلایا گیا ہے۔
صحافی ابو عرفہ کو صہیونی فوج کے ہاتھوں گرفتاری سے قبل آٹھ ماہ تک فلسطینی ملیشیا کی جیلوں میں بھی قید رکھا گیا ہے۔ تاہم فلسطینی عدالت نے ابوعرفہ کو بری قرار دے کر اس کی رہائی کا حکم دیا تھا جس کے بعد اسے رہا کر دیا گیا۔
ادھر فلسطینی سیاسی جماعتوں اسلامی تحریک مزاحمت حماس، اسلامی جہاد، عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین اور فلسطین پریس کلب کی جانب سے عامر ابو عرفہ کو تیسری مرتبہ انتظامی حراست میں سزا کو مسترد کر دیا ہے۔ سیاسی اور سماجی تنظیموں نے اپنے اپنے بیانات میں عامر کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
