اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے زیرحراست فلسطینی رکن قانون ساز کونسل خالد الطافش کو چھ ماہ کی انتظامی قید میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ خالد الطافش کو صہیونی فوج نے ایک ہفتہ قبل مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم سے گرفتار کیا گیا تھا،
جنہیں گرفتاری کے بعد عوفرجیل میں رکھا گیا ہے۔
ذرائع نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ اسرائیلی عدالت نے جمعہ کو فلسطین رکن قانون ساز کونسل خالد الطافش کو چھ ماہ کے لیے انتظامی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا۔ انہیں صہیونی حکام کی جانب سے گذشتہ ہفتے فلسطینی مجلس قانون ساز کے اسپیکر ڈاکٹرعزیزدویک کی گرفتاری کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری کے بعد صہیونی فوج نےایک دوسرے رکن قانون ساز کونسل عبدالجابر فقہاء کو بھی رام اللہ سے حراست میں لے لیا تھا۔
خیال رہے کہ خالد الطافش سنہ 2006ء کے فلسطینی پارلیمانی انتخابات میں حماس کے سیاسی بازو اصلاح و تبدیلی کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے۔ انہیں صہیونی فوج نے سنہ 2007ء کو کوئی چالیس کے قریب دیگر اراکین قانون ساز کونسل کے ہمراہ حراست میں لے لیا تھا۔ وہ چار سال تک صہیونی جیل میں رہ کر گذشتہ برس رہا ہوئے تھے۔ رہائی کے کچھ ہی ماہ بعد قابض فوج نے انہیں دوبارہ حراست میں لے لیا۔

