اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے فلسطینی خاتون اسیرہ دنیا ضرار عیسیٰ حارون کو مزاحمتی خاندان سے تعلق کی پاداش میں ساڑھے تین سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق 38 سالہ دنیا ضرار کے خلاف جاری مقدمہ کی سماعت پر کل اتوار کو فیصلہ دیا گیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق دنیا کو 42 ماہ کی عملی سزا اور دیگر شرائط پوری نہ کرنے اور عملے سے عدم تعاون پر 12 ماہ مزید قید کاٹنا ہوگی۔
ادھر فلسطینی اسیران کے حقوق کے لیے سرگرم خاتون سماجی کارکن میسر عطیانی نے
"مرکزاطلاعات فلسطین” کو بتایا کہ دنیا ضرار کو صہیونی فوجیوں نے 27 مئی 2012 ء کو مغربی کنارے کے شہر طولکرم میں اس کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا تھا۔ اسیرہ شوگر اور سانس سمیت متعدد دیگر امراض کا بھی شکار ہے۔ انہوں نے صہیونی عدالت کے فیصلے کو غیرمنصفانہ اور ظالمانہ قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے دنیا کی فوری رہائی میں ٹھوس کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
