اسرائیل کی سب سے بڑی علمی درسگاہ "جامعہ حیفا” کی جانب سے فلسطین دشمنی کا ایک نیا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سرکاری سلوگن سے عربی زبان ختم کردی ہے۔
اب یونیورسٹی کے سلوگن پر صرف انگریزی اور عبرانی زبان میں عبارت باقی رہ گئی ہے۔ جس میں یونیورسٹی کا نام تحریر کیا گیا ہے۔ اسرائیلی اخبار”ہارٹز” کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی سرکاری یونیورسٹی جامعہ حیفا کا سلوگن انگریزی، عربی اور عبرانی تین زبانوںمیں تحریر کیا گیا تھا، جو آج تک ایسے ہی چلا آ رہا تھا۔ لیکن حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ جامعہ حیفا کی انتظامیہ نے سلوگن اور یونیورسٹی کے باہر لگے بورڈ سے عربی زبان میں سلوگن کی عبارت ختم کردی ہے اور اب صرف انگریزی اور عبرانی زبان میں تحریریں باقی رہ گئی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی یونیورسٹی نے یہ اقدام اپنی چالیسویں سالگرہ کے موقع پراٹھایا ہے، اس سے عرب اورفلسطینی طلبہ اور اساتذہ کی دل آزاری ہوئی ہے۔ اخبار لکھتا ہےکہ انہیں یونیورسٹی کے اس اقدام کی اطلاع اس وقت ملی جب اساتذہ اور عرب طلباء عربی زبان کو مٹائے جانے پر احتجاج کیا گیا۔ جامعہ کے اساتذہ اورفلسطینی طلباء نے انتظامیہ کے اس نسل پرستانہ اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عربی زبان کی عبارت دوبارہ شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیل فلسطین میں تمام تاریخی مقامات اور عمارات کو یہودیانے کی سازشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بیت المقدس اور فلسطیبن کے دیگر تاریخی شہروں میں تاریخی مقامات کے عربی ناموں کی جگہ ان کے عبرانی ناموں کی مہم کئی سال سے جاری ہے۔ اب تک مقبوضہ بیت المقدس کے کئی اہم مقامات اور فلسطین کے کئی شہروں کو "عبرانیت” کے رنگ میں رنگا جا چکا ہے اور ان کے عبرانی نام متعارف کرائے گئے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

