سن 48ء کے مقبوضہ فلسطین (نام نہاد اسرائیل) میں یہودیوں کے طبقاتی معاشرہ اپنے اندر بڑھنے والے اختلافات کے باعث شکست و ریخت کا شکار ہے۔ مذہبی اور دیگر معاملات میں اختلافات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ ”الٹرا آرتھوڈوکس یہود” کے درجنوں افراد کو قتل کرنے کی دھمکی اس بنیاد پر دیدی گئی ہے کہ انہوں نے خواتین کو مسجد اقصی سے متصل دیوار براق پر تلمودی رسومات ادا کرنے سے روکا ہے۔
عبرانی زبان میں نشر ہونے والے ایک اسرائیلی ریڈیو نے پیر کے روز اپنی شام کی نشریات میں بتایا کہ اسرائیلی ریاست میں سب سے بڑے دو مذہبی پیشواؤں کو موصول ہونے والی دھمکیوں میں ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ”دیوار گریہ کی عورتیں” نامی تنظیم کی خواتین کو دیوار براق (دیوار گریہ) کے قریب جاکر عبادت کی اجازت دی جائے اور الٹرا آرتھوڈوکس انہیں مذہبی رسومات کی ادائیگی سے مت روکیں۔
یہ دونوں دھمکی آمیز پیغام یہودی ربی یونا میٹسگر اور ربی شلومو عمار کو موصول ہوئے ہیں۔ ان پیغامات میں پستول کی تصویر بھی بنی ہوئی ہے اور ساتھ ہی الٹرا آرتھو ڈوکس کے سیکڑوں افراد کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دیدی گئی۔
ریڈیو نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل کے کبار یہودی ربیوں کی تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل نے یہ دونوں دھمکی آمیز پیغامات وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے ایوان کے سکیورٹی عہدیدار کو پہنچا دیے ہیں۔
دو ہفتے قبل اسرائیلی پولیس کی جانب سے دیے گئے ایک بیان میں بھی یہودی معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان مذہبی اختلافات کے بڑھنے کی نوید سنائی گئی تھی۔ بالخصوص مسجد اقصی کی”دیوار براق” جسے یہودی اپنا مقدس مقام قرار دیکر یہاں آکر آہ و زاری اور گریہ کرتے ہیں، پر خواتین کو تلمودی رسومات کی ادائیگی کی اجازت کے حوالے سے معاشرے میں شدید تناؤ کا اظہار کیا گیا تھا۔
پولیس نے اسرائیل میں پھیلتی اس مذہبی منافرت کے حوالے سے بتایا کہ مختلف یہودی فرقوں نے اب ایک دوسرے کے خلاف دیواروں پر وال چاکنگ بھی شروع کردی ہے۔ پولیس نے حوالہ دیا کہ القدس میں ایک دیوار پر درج ایک عبارت میں ”دیوار کی عورتوں کی تنظیم” کے حق میں برے الفاظ کہے گئے تھے، اسی طرح ایک عبارت میں ان خواتین کو حقیر قرار دیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ ”نساء الحائط” (دیوار کی خواتین) نامی یہ تنظیم یہودی معاشرے میں نئی نسل کی نمائندگی کرتی ہے، یہ تنظیم دیوار براق کے قریب خواتین کی آزادانہ رسائی کا مطالبہ کرتی ہے جب کہ دوسری طرف یہودی انتہاء پسند معاشرہ انہیں اس طرح کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہے۔
یاد رہے کہ عالمی اداروں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹوں کے مطابق ”یہودی عورت” کو اسرائیلی معاشرے میں مناسب مقام نہیں دیا جاتا، یہودی معاشرے میں عورتوں کے ساتھ کمتروں والا سلوک کیا جاتا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
