رپورٹ کے مطابق حال ہی میں اسرائیل کے عرب رکن پارلیمنٹ اسامہ جرار نے ’’ھشارون‘‘ جیل کا دورہ کیا جہاں انہوں نے قید فلسطینی خواتین کو درپیش حالات کاجائزہ لیا۔
اسامہ السعدی نے بتایا کہ اسرائیلی جیل ھشاروں میں 10 کم سن فلسطینی اسیران میں کل 31 فلسطینی خواتین پابند سلاسل ہیں جن کی حالت نہایت تشویشناک ہے۔ ان میں کئی سال سے پابند سلاسل لینا جربونی اور فلسطینی رکن پارلیمنٹ خالدہ جرار بھی شامل ہیں۔
ھشارون جیل کے دورے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اسامہ السعدی کا کہنا تھا کہ جیل میں قید خواتین کو درپیش سنگین حالات کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ قیدی فلسطینی عورتوں سے بدترین صنفی اور نسلی امتیاز برتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی قید خانوں میں بند فلسطینی خواتین کی حالت زار کو عالمی اداروں میں اٹھانے کی ضرورت ہے۔
ایک سوال کے جواب میں اسامہ السعدی کا کہنا تھا کہ ھشارون جیل میں 10 کم عمرفلسطینی خواتین پابند سلاسل ہیں۔ انہیں بھی بڑی عمر کی خواتین کے ساتھ بدترین حالات کا سامنا ہے مگر ان کے حوصلے بلند ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صہیونی جیلروں نے فلسطینی خواتین کو کتابوں تک رسائی بھی بند کر رکھی ہے۔ جیل میں گنجائش سے زیادہ فلسطینی قید ہیں اور نہایت غیرمعقول اور شرمناک انداز میں خواتین قیدیوں کو تنگ وتاریک کوٹھڑیوں میں ٹھونسا گیا ہے۔
