فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی توسیع پسندی میں نہ صرف اس کی حکومت، فوج اور یہودی آبادکار پیش پیش ہیں بلکہ اسرائیل کی عدالتوں نے بھی فلسطینیوں کی املاک پر قبضے کے لیے حکومت کی پشت پناہی شروع کر دی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی سپریم کورٹ نے مغربی کنارے کے جنوبی تاریخی شہر الخلیل میں فلسطینیوں کی جانب سے اراضی غصب کرنے اسرائیلی فوجی فیصلے کے خلاف دائردرخواست مسترد کر دی ہے۔ صہیونی سپریم کورٹ نے موقف اختیار کیا ہے کہ الخلیل میں یہودی بستیوں کو باہم مربوط کرنے کے لیے زمینی راستوں کا قیام ضروری ہے، اس سلسلے میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے فوجی قانون کے تحت فلسطینیوں کی املاک اور اراضی پر قبضہ درست اقدام ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت نے کچھ عرصہ پیشتر مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں تعمیر کی گئی کریات اربع یہودی کالونی کو دوسری کالونیوں سے ملانے کے لیے فلسطینیوں کی کئی ایکڑ اراضی پر قبضہ کر لیا تھا۔ فلسطینیوں کی مغصوبہ اراضی کے بدلے میں انہیں کسی قسم کا معاوضہ بھی نہیں دیا گیا تھا۔
فلسطینی شہریوں نے اسرائیلی حکومت کی اس غنڈہ گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے صہیونی سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم جمعرات کے روز اسرائیلی عدالت نے فلسطینیوں کی درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ الخلیل میں یہودی کالونیوں کے درمیان رابطے کے لیے قائم کیا گیا راستہ درست اقدام ہے اور یہاں پر اسرائیل کو تعمیرات کا حق ہے۔
ادھر الخلیل کے متاثرہ شہریوں کے وکیل سامر الشحادہ نے اسرائیلی سپریم کورٹ کے فیصلے کوغیرقانونی قرار دیا ہے۔ سامرشحادہ نے اسرائیلی فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ صہیونی سپریم کورٹ نے ان کی درخواست کو مسترد کر کے علاقے میں یہودی آباد کاری کے فروغ میں تعاون کیا ہے۔ صہیونی عدالت نے نہ صرف الخلیل کے شہریوں کی مدد کے بجائے ظالم کی مدد کی ہے بلکہ قابض حکومت کو مزید یہودی آباد کاری کا سرٹیفکیٹ دیا ہے۔

