اسرائیل کی سپریم کورٹ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ سے ملحقہ مسلمانوں کے ایک قدیم قبرستان‘‘الرحمۃ’’ پر ضلعی حکومت کے قبضے کی درخواست منظور کرتے ہوئے قبرستان کو یہودیانے کی باضابطہ طور پر اجازت دے دی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی عدالت کے فیصلےکے خلاف فلسطین میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں مقامی انسانی حقوق اور فلسطینیوں کی املاک پر یہودیوں کے حملوں پر نظر رکھنے والے‘‘وادی حلوہ۔ سلون’’ انفارمیشن سینٹر نےاطلاع دی ہے کہ جمعرات کے روز صہیونی سپریم کورٹ نے انتہا پسند یہودیوں اوربیت المقدس کی ضلعی حکومت کی طرف سے دی گئی اس درخواست پر فیصلہ سنا دیا ہے جس میں درخواست گذاروں نے عدالت سے مسجد اقصیٰ سے ملحقہ الرحمۃ قبرستان کے ایک حصے کو سیاحتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے کی استدعا کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ الرحمۃ قبرستان کا 1800 مربع میٹر حصہ اسرائیلی حکومت کو سیاحتی سڑک اور ایک پبلک پارک بنانے کے لیے استعمال کی جازت دی جائے۔
وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق پچھلے ماہ رمضان المبارک کےدوران اسرائیلی پولیس نے بیت المقدس کے قراعین خاندان کی ایک خاتون کی میت کو اس قبرستان میں دفن کرنے سے منع کر دیا تھا۔ جس کے بعد فلسطینیوں اور بیت المقدس کی ضلعی حکومت میں ایک نیا تنازع شروع ہوا تھا۔ اس موقع پر فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی صہیونی عدالت سے رجوع کیا تھا لیکن عدالت نے صہیونی ضلعی حکومت کے حق میں فیصلہ دے کر یہود نوازی کا ثبوت دیا ہے۔
انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق صہیونی سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الرحمۃ قبرستان کے 1800 مربع میٹر رقبے پر بنائی گئی نئی 39 قبروں کو اکھیڑ دیا جائے گا اور پولیس کواجازت دی گئی ہے کہ وہ نہ صرف قبرستان کے اس حصے پر مزید تدفین کی اجازت نہ دیں بلکہ مسلمانوں کو قبرستان کے قدیم حصے میں بھی تدفین سے روک دیں۔ خیال رہے کہ الرحمۃ قبرستان پر صہیونی حکومت نے سنہ 1995ء میں قبضہ کیا تھا، جس کے بعد صہیونی حکومتیں قبرسان کو سیاحتی مقام یا پبلک پارک میں تبدیل کرنے کی کوششیں کرتی رہی ہیں۔
درایں اثناء قبرستان پر قبضے کے متعلق صہیونی عدالت کے فیصلے کے ردعمل میں فلسطینیوں نے سخت احتجاج کیا ہے۔ ادھر مقبوضہ بیت المقدس میں تحفظ آثار قدیمہ کمیٹی اور آریہ کنگ نامی یہودی آباد کار سمیت کوئی سترہ شخصیات نے صہیونی عدالت میں اسرائیلی محکمہ آثار قدیمہ، وزارت داخلہ، سیاحت، بیت المقدس میں پولیس چیف اور صہیونی ضلعی حکومت اور فلسطینی محکمہ اوقاف اسلامیہ کے خلاف ایک الگ سے بھی دعویٰ دائر کیا گیا ہے۔ اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الرحمۃ قبرستان کےبارے میں عدالت میں جاری مقدمہ میں یہ تمام ادارے اور افراد بطور فریق شامل تھے لیکن عدالتی کارروائی میں موجود نہیں تھے، ان کی عدم موجودگی میں عدالت نے یہودی آباد کاروں کے حق میں فیصلہ دیا ہے جو کہ غیر منصفانہ ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
