فلسطینی اتھارٹی اور صدر محمود عباس کی جماعت تحریک فتح کی جانب سے اسرائیلی دشمن کے ساتھ خفیہ اور علانیہ راہ و رسم بڑھانے اور دوستی کےپیغامات بھیجنے پر فلسطین کے سیاسی
حلقوں میں سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بائیں بازو کی سیاسی جماعت عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے ایک بیان میں ہے کہ اسرائیل کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے والے فلسطینی قوم کی نمائندگی کا حق نہیں رکھتے ہیں۔ فلسطینی قوم صہیونی دشمن کے ساتھ دوستی کو "جرم” قرار دیتے ہیں اور ایسے عناصر کسی صورت میں نمائںدگی کا حق نہیں دیتے جو دشمن کے ساتھ دوستی کاہاتھ بڑھائے۔
بیان میں فلسطینی وزیر برائے مذہبی امور محمود الھباش اور تحریک فتح کے رہ نما محمد مدنی کی بیت المقدس میں صہیونی حکام کے ساتھ ہوئی ایک خفیہ ملاقات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلیوں کے ہاتھ معصوم فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ایسے خون خوار دشمن سے دوستی کا ہاتھ ملانے والے فلسطینی قوم کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ابھی تک غرب اردن میں ایک فلسطینی خاندان کو زندہ جلائے جانے اور شیرخوار بچے کو شہید کرنے کا واقعہ تازہ ہے اور دوسری طرف فلسطینی اتھارٹی کے دوران دشمن کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔
عوامی محاذ نے صہیونی ریاست کے ساتھ دوستانہ مراسم کے خواہاں فلسطینی اتھارٹی کے عہدیداروں کے خلاف سخت موقف اختیار کیا اور تمام فلسطینی قوتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دشمن کے ساتھ تعلقات کے قیام کے خلاف اعلان جنگ کریں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ دوستی کا ہاتھ ملانے والے فلسطینی قوم کے بنیادی حقوق کا سودا کرنے کی سازش کرنے کے ساتھ ساتھ شہداء کی قربانیوں کے ساتھ خیانت کررہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے بیشتر عہدیدار بالخصوص محمود الھباش جیسے وزراء سیاسی دیوالیہ پن کا شکار ہیں جو اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے دشمن سے راہ و رسم بڑھانے کی کوششیں کررہے ہیں۔
