فلسطینی محکمہ اوقاف کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ قابض صہیونی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے ایک محافظ عبدالرحمان شریف نے ایک بچی کو جو قبلہ اول میں داخل ہونا چاہتی کو مسجد کے اندر جانے دیا۔ اس کے پیچھے اسرائیلی پولیس اہلکاروں کے ایک گروپ نے عبدالرحمان شریف سے پوچھ تاچھ شروع کردی کہ آپ نے اس بچی کو اندر کیوں جانے دیا۔ بچی نے اندر جاتے ہی بلند آواز میں نعرہ تکبیر لگایا۔ یہودی پولیس اہلکار مسجد کے اندر داخل ہوگئے اور بچے کو گھیسٹ کرباہرلانے کے بعد وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
ترجمان نے بچی پراسرائیلی درندہ صفت پولیس اہلکاروں کے تشدد کی شدید مذمت کی اور اسے غیرانسانی فعل قرار دیا۔۔ یہودی پولیس اہلکاروں کے حملے کے بعد مسجد اقصیٰ میں موجود شہریوں میں سخت غم وغصہ کے فضاء پائی جا رہی ہے۔
ادھر اتوار کو علی الصباح اسرائیلی پولیس اور فوج کی موجودگی میں 38 یہودی طلباء سمیت 82 یہودی انتہا پسند مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور دیر تک وہاں گھومتے رہے۔ اس دوران انہوں نے مسجد کے اندر تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات بھی ادا کیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
