فلسطین میں انسانی حقوق کی تنطیم "کلب برائے اسیران” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ قابض اسرائیلی انٹیلی جنس حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے کے "ھداسا” اسپتال میں
زیرعلاج زخمی ایک فلسطینی بچے کو اغواء کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی انٹیلی جنس اہلکاروں نے 15 سالہ عنان فارس ملش کو "ھداسا” اسپتال سے اٹھانے کے بعد غائب کردیا ہے۔
بیان کے مطابق فارس ملش کو دو روز قبل رام اللہ کے قریب اسرائیلی فوجیوں نے گولیاں ماری تھیں جس کے نتیجے میں اس کی دونوں ٹانگیں زخمی ہوگئی تھیں۔ اسے شدید زخمی حالت میں ‘ھداسا’ اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں گذشتہ روز اسرائیلی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے چھاپہ مار کراسے اغواء کرلیا۔
فارس کے اہل خانہ نے اپنے بچے کے اغواء کی شدید مذمت کرتےہوئے اس کےحوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ صہیونی انٹیلی جنس حکام ان کے بچے کو کسی خفیہ مقام پر تشدد کانشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے فارس ملش کی فوری رہائی کے لیے مدد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
