اسرائیلی ح کو مت نے بزرگ فلسطینی رہ نما الشیخ رائد صلاح کے ایک ماہ کے لیے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کردی ہے اور حسب ضرورت پابندی کی مدت میں کئی ماہ کی توسیع کی جاسکتی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی وزارت داخلہ کی جانب سے گذشتہ روز جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ الشیخ رائد صلاح کا بیرون ملک سفر اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرات کا باعث بن سکتا ہے، لہٰذا ح کو مت ان کے بیرون ملک سفر پر 09 جولائی 2014 ء تک پابندی عائد کرتی ہے۔ حسب ضرورت پابندی کی مدت میں مزید توسیع کردی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ روز اسرائیلی وزیرداخلہ گدعون ساعر نے الشیخ رائد صلاح کے بیرون ملک سفر پابندی کے حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ الشیخ صلاح کے بیرون ملک سفر کی وجہ سے صہیونی ریاست کو سیکیورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی بناء پر انہیں بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے فی الوقت یہ پابندی ایک ماہ کے لیے عائد کی ہے اور اگلے مرحلے میں چھ ماہ کی توسیع کی جاسکتی ہے۔
اسرائیلی ح کو مت کے فیصلے کے رد عمل میں الشیخ رائد صلاح کا کہنا ہے کہ بنجمن نیتن یاھو کی ح کو مت اسلامی تحریک کی مساعی سے خوف زدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مجھے بیرون ملک سفرسے روک نے کی کو شش کی ہے۔ الشیخ رائد صلاح کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے کے روز اردن کے دارالح کو مت عمان میں فلسطینی بھوک ہڑتالی اسیران کے حوالے سے ایک بڑی عالمی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا ہے اور مجھے بھی اس کانفرنس میں شرکت کرنا تھی۔ اسرائیل نے مجھے روک کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ فلسطینی اسیران سے یکجہتی کے لیے کیے جانے والے کسی بھی اقدام کی راہ میں رکاوٹ ڈالےگا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
