اسرائیلی جیل حکام نے فلسطینی قیدیوں کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے کل پیرکواجتماعی بھوک ہڑتال کی تو انہیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ خیال رہے کہ فلسطینی اسیران کی بڑی تعداد نے کل سترہ اپریل کویوم اسیران کےموقع پر تمام اسرائیلی جیلوں میں اجتماعی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم” عالمی یکجہتی فاؤنڈیشن” نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی جیل انتظامیہ نے جیلوں میں تمام فلسطینی محروسین کو خبردار کیا ہے کہ وہ سترہ اپریل کو اجتماعی بھوک ہڑتال کی کال واپس لے لیں ورنہ ان کے خلاف سنگین نوعیت کے اقدامات کیے جائیں گے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے رکن احمد البیتاوی نے بتایا کہ صہیونی جیل انتظامیہ فلسطینی اسیران میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔ قیدیوں کو منتشر کرنے اوران کی بھوک ہڑتال روکنے کے لیے ایٹزک جبائی نامی ایک فوجی افسر کی نگرانی میں کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔ کمیٹی کے ارکان مختلف مزاحمتی تنظیموں کے اسیر کارکنوں سے ملاقات کرکے ان کے مطالبات کا جائزہ لیں گے تاہم اسیران کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی فوجیوں کی کسی کمیٹی کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی بھوک ہڑتال کے معاملے پرکسی سمجھوتے کا شکار ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق جیل انتظامیہ کی تشکیل کردہ کمیٹی کے کچھ ارکان نے عوفر، نفحہ، ایچل اور رامون جیلوں میں اسیران سے ملاقاتیں کرچکے ہیں تاہم ان ملاقاتوں کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔
احمد البیتاوی کا کہنا تھا کہ اسرائیل طاقت اور دھمکیوں کے ذریعے فلسطینی اسیران کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی ہے تاہم اسیران نے اسرائیلی بلیک میلنگ میں نہ آنے اور بھوک ہڑتال کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست ہزاروں فلسطینی کل یوم اسیران کے موقع پر اسرائیلی جبرکےخلاف اپنے جائز حقوق کے لیے اجتماعی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

