رپورٹ کے مطابق بیت المقدس کی رہائشی ’شیرین صیداوی‘‘ نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے اسے زبردستی شمالی بیت المقدس میں بیت حنینا کے مقام پر واقع مکان مسمار کرادیا۔ صیداوی نے بتایا کہ صہیونی حکام نے اسے دھمکی دی کہ وہ مکان مسمار کا ایک حصہ مسمار کردے ورنہ بلڈوزروں کی مدد سے نہ صرف اس کا مکان مسمار کردیا جائے گا بلکہ مکان کی مسماری کے اخراجات بھی اسی سے وصول کیے جائیں گے۔ جس کے بعد اس نے مجبورا اپنے مکان کا ایک حصہ گرادیا۔
بیت المقدس کی رہائشی 36 سالہ صیداوی نے بتایا کہ بدھ کے روز اسرائیلی فوجیوں نے اس کے مکان کا محاصرہ کیا اور مکان کی مسماری کی تیاری شروع کردی۔ ساتھ ہی اسے دھمکی دی گئی کہ وہ پورا مکان مسمار کرنے کے بعد اس کی مسماری پرآنے والی لاگت اس سے وصول کریں گے۔ اس پرہم نے خود ہی مکان کا ایک حصہ مسمار کرنے کا فیصلہ کیا۔ صیداوی نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی اس وقت تک مکان کے پاس موجود رہے جب تک کہ ہم نے بلڈوزر اور مزدور منگوا نہیں لیے تھے۔
شیرین صیداوی کا کہنا تھا کہ اس کا ملکیتی مکان سنہ 1967 ء سے بھی پہلے سے وہاں موجود تھا۔ جس میں دو کمروں کا اضافہ کیا گیا تھا۔ صہیونی حکام نے مکان میں شامل کیے گئے دو نئے کمروں کو مسمار کرادیا۔
