
اسرائیلی جیل میں زیرحراست فلسطینی بھوک ہڑتالی اسیرہ ھناء شلبی کی مسلسل بھوک ہڑتال کو43 ایام گذر گئے ہیں۔ دوسری جانب قابض صہیونی فوج نے اسیرہ ھناء شلبی کو بلیک میل کرنے کے لیے اپنے طور پرسازشیں شروع کردی ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کو ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے ھناء شلبی کو بھوک ہڑتال ختم کرانے اور اسے اس شرط پر رہا کرنے کا کہا ہے کہ بشرطیکہ وہ رہائی کے بعد مغربی کنارے کے بجائے غزہ کی پٹی میں منتقل ہوجائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج کی جانب سے ھناء شلبی اور اس کے اہل خانہ پرسخت دباؤ ہے اور ھناء کی خرابی صحت کی بناء پر اسرائیلی قابض فوج موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ایک اخباری ذریعے کا کہنا ہے کہ ھناء شلبی نے غزہ بدری کی شرط پر رہائی کی تجویز تسلیم کرلی ہے تاہم دوسری جانب اسلامی جہاد کی جانب سے ھنا اور اسرائیلی فوج کے درمیان کسی خفیہ ڈیلنگ پراتفاق کی سختی سے تردید کی ہے۔
اسلامی جہاد کے ترجمان داؤود شہاب کا کہنا ہے کہ ان کے علم میں ایسی کوئی اطلاع نہیں جس میں ھناء شلبی اوراسرائیلی حکام کے درمیان کوئی خفیہ معاہدہ ہوا ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے اسلامی جہاد سے بھی بالواسطہ رابطہ کیا گیا تھا جس میں ھناء شلبی کی مغربی کنارے کے بجائے رہائی کے بعد غزہ منتقلی کی تجویز دی گئی تھی تاہم اسلامی جہاد نے یہ تجویز مسترد کردی ہے۔
اسلامی جہاد کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ھنا شلبی اب چوالیس دن میں بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہے، اس کی بھوک ہڑتال کے باوجود اس پر نفسیاتی اور جسمانی تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
