(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل دو فلسطینی میاں بیوی اسماعیل عبداللہ لعروج ور اس کی اہلیہ رابعہ العروج پر مسکوبیہ نامی حراستی مرکز میں وحشیانہ تشدد کیا گیا جس کے نتیجے میں دونوں کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کلب برائے اسیران کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ 33 سالہ اسیر عبداللہ العروج کو 13 مارچ 2014 ء سے پابند سلاسل ہیں۔ نہیں حال ہی میں بیت المقدس کے مسکوبیہ جیل میں لایا گیا جہاں پانچ صہیونی فوجی تفتیش کاروں نے اس پر ہولناک تشدد کیا ہے۔ تشدد کے بعد انہیں رات بھرکرسی کے ساتھ ہاتھوں اور پاؤں کو کو باندھ کر رکھا گیا ہے۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی حکام نے نہ صرف عبداللہ العروج کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے کہ پچھلے سال دسمبر سے حراست میں لی گئی اس کی اہلیہ رابعہ العروج کو بھی ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
دونوں میاں بیوی سے اقبالی بیانات کے حصول اور ان پرعائد الزامات کو منوانے کے لیے ان پر تشدد کے آخری درجے کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے ہیں۔
انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ صہیونی فوجیوں نے فلسطینی خاتون اور اس کے شوہر کو آہنی لاٹھیوں سے وحشیانہ طریقے سے مارا پیٹا ہے۔ تشدد کے نتیجے میں عبداللہ العروج کی ریڑھ کی ہڈی اور پسلیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
اسیر کے ہاتھ پاؤں باندھنے کے بعد صہیونی فوجی غنڈہ گرد اس کی کمر پر باری باری بیٹھتے اور ساتھ ہی ساتھ اسے تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔ کلب برائے اسیران نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے زیرحراست فلسطینی میاں بیوی پر ڈھائے جانے والے مظالم کا سخت نوٹس لینے اور ان کی رہائی کے لیے صہیونی ریاست پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
