اسرائیل کی ایک جیل میں چھ ماہ سے زیرحراست فلسطینی صحافی چھیالیس سالہ امین ابو ردہ کی مدت اسیری میں مزید دس روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافتی حلقوں نے صہیونی عدالت کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ابو وردہ کے وکیل محمد عابد نے میڈیا کو بتایا کہ صہیونی عدالت نے ان کے موکل کی سزا میں ملٹری پراسیکیوٹر جنرل کی سفارش پر توسیع کی ہے۔ صہیونی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ ابو وردہ کو مزید دس دن کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم دے۔ ان دس دنوں کی حراست کے بعد یکم جولائی کو انہیں رہا کردیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں محمد عابد نے بتایا کہ ان کے موکل کو عوفر جیل میں رکھا گیا ہے، جوچار ماہ سے سے غیر قانونی طورپر حراست میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ابو وردہ کی سزا میں مزید توسیع کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔
