فلسطین کی مزاحمتی تنظیم اسلامی جہاد کے اسرائیلی جیل میں زیرحراست بھوک ہڑتالی کمانڈر الشیخ مجاہد خضرعدنان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ اسلامی جہاد کے سیکرٹری جنرل رمضان شلح نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ محروس کمانڈر بھوک ہڑتال، طویل قید، خرابی صحت اور تشدد کے باعث مکمل طورپر نڈھال ہو چکے ہیں اور ان کی زندگی سخت خطرے سے دوچار ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے زیرحراست فلسطینی رہ نما کی کیفیت پر اقوام متحدہ بھی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی جہاد کے سیکرٹری جنرل رمضان شلح مغربی کنارے میں خضر عدنان سے یکجہتی کے لیے نکالی گئی ایک ریلی سے ٹیلیفون پر خطاب کرتےہوئے کہا کہ”خضرعدنان کی زندگی کو سخت نوعیت کےخطرات لاحق ہیں اور جیل میں بھوک ہڑتال کے تسلسل کے باعث وہ کسی بھی وقت شہید ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی فوج اور حکومت کو خبردار کیا کہ شیخ عدنان کی جان کو کچھ ہوا تو وہ اس کے ذمہ دار ہوں گے”۔
ادھرمغربی کنارے کے شمال میں خضرعدنان کے آبائی شہر جنین میں ہزاروں افراد نے ان کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر خضر کی رہائی کے لیے مطالبات درج تھے۔ شہریوں نے ہاتھوں میں خضرعدنان کی تصاویر بھی اٹھار رکھی تھیں۔
اسی طرح کا ایک احتجاجی مظاہرہ غزہ کی پٹی میں بھی کیا گیا۔ مظاہروں میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ غزہ میں نکالی گئی ریلی نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم "ریڈ کراس” کے دفترکے باہر دھرنا دیا اور انسانی حقوق کے دفتر میں ایک یادداشت جمع کرائی گئی جس میں اسیر فلسطینی خضرعدنان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
درایں اثناء اقوام متحدہ کی خصوصی مندوب برائے مشرق وسطیٰ رابرٹ سیری نے الشیخ خضرعدنان کی خرابی صحت اور بھوک ہڑتال پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاعدنان خضرکی بگڑتی صحت پر انہیں سخت تشویش ہے۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت سےمطالبہ کیا کہ وہ عدنان کی بھوک ہڑتال ختم کرنے اور اس کے علاج کے لیے فوری اقدامات کرے۔

