مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق دونوں رہ نماؤں کی رہائی اتوار کی شام کی گئی۔ حسن الوردیان اور انور زبون کو دو ماہ قبل مغربی کنارے کے شہر بیت لحم سے حراست میں لیا گیا تھا۔ دونوں کو دو ماہ تک انتظامی حراست میں رکھا گیا۔
اسرائیلی قید سے رہائی کے بعد انور زبون نے مرکزاطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں قید ہزاروں فلسطینی شہری غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت سے نہ صرف باخبر ہیں بلکہ صہیونی مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسیران کی جانب سے میں قوم کے لیے مبارک باد کا پیغام بھی لےکرآیا ہوں۔ تمام اسیران نے غزہ کی پٹی پر فلسطینی قوم کی جانب سے صہیونی ریاست کے خلاف متفقہ موقف اپنانے کو سراہا ہے اور قوم میں موجودہ اتحاد و اتفاق کی فضاء پرمبارک باد پیش کی ہے۔
انور زبون نے بتایا کہ جب انہیں خبر ملی کہ غزہ کی پٹی میں مجاھدین نے دشمن کے ایک فوجی کو یرغمال بنا لیا ہے تو نفحہ جیل نعرہ تکبیر سے گونج اٹھا اور تمام قیدیوں نے دشمن فوجی کو یرغمال بنائے جانے پر سجدہ شکر بجالایا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے 48 سالہ انور زبون کو 25 جون کو مغربی کنارے کے شہر بیت لحم سے حراست میں لیا تھا۔ ان کی گرفتاری اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینی ارکان اسمبلی کی گرفتاریوں کے لیے جاری وحشیانہ کریک ڈاؤن کے دوران عمل میں لائی گئی تھی۔
