اسرائیلی جیل اتھارٹی نے القدس سے گرفتار کی گئی ایک فلسطینی خاتون قیدی کو جرائم پیشہ خواتین کی بیرک میں منتقل کر دیا ہے۔ محض سکیورٹی وجوہات کی بنا پر گرفتار کی گئی اڑتیس سالہ انصار الصیاد کو تین ماہ تک کریمنل کیسوں میں گرفتار خواتین کے ساتھ رہنا ہو گا۔
انسانی حقوق کی یک جہتی فاؤنڈیشن نے اپنے تازہ انکشاف میں بتایا کہ تنظیم کی خاتون وکیل کفایہ مصاروہ نے ھشارون جیل میں موجود ایک خاتون قیدی نوال سعدی کے حوالے سے بتایا کہ صہیونی حکام نے حال ہی میں القدس کی خاتون کو تین ماہ کے لیے جرائم پیشہ خواتین کی بیرک میں منتقل کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ھشارون جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ القدس کی اس خاتون کو غلطی سے کریمنل بیرک میں منتقل کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق یک جہتی فاؤنڈیشن کی وکیل نے بتایا کہ اڑتیس سالہ انصار الصیاد شادی شدہ اور چار لڑکوں کی ماہ ہے۔ اسرائیلی فوج نے انہیں ایک صہیونی فوج پر حملے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ جس پر انہیں تین ماہ قید کی سزا دی گئی ہے۔ خاتون وکیل نے مزید بتایا کہ جس بیر ک میں انصار الصیاد کو رکھا گیا ہے وہاں موجود دیگر خواتین کے نام لینا جربونی، نوال سعدی ، منی قعدان اور انعام حسنات ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
