اسرائیل کی جیلوں میں فلسطینی اسیران کی بھوک ہڑتال اور اس کے مثبت نتائج کے بعد فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی انتظامیہ کی جیلوں میں بھی سیاسی قیدیوں نے اپنی رہائی کے لیے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کی نابلس میں قائم جنید جیل میں دو فلسطینی سیاسی رہ نما عبداللہ سالم العکر کی بھوک ہڑتال کو پندرہ دن گذر چکے ہیں جبکہ ان کے ایک دوسرے ساتھ محمود یسری العویوی کو جنید جیل میں بھوک ہڑتال کا آج چھٹا روز ہے۔ ان دو سیاسی اسیران نے اپنی رہائی تک بھوک ہڑتال جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں زیرحراست فلسطینیوں کی بھوک ہڑتال کے بعد کئی دیگر سیاسی کارکنوں نے بھی اپنے بلا جواز حراست کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کرنے پرغور کیا ہے۔ پی آئی سی کو ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی جیلوں میں اپنے حقوق کے لیے ایک ماہ تک اجتماعی بھوک ہڑتال کی کامیابی کے بعد جس طرح فلسطینی قوم کی طرف سے اسیران کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا، اسی طرح فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں پابند سلاسل شہریوں نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ انہیں بھی فلسطینی عوام کی جانب سے یکجہتی اور تعاون ملے گا۔
فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں زیر حراست فلسطینیوں کی بھوک ہڑتال کو کامیاب بنانے اور اسے مزید پھیلانے کے لیے اسیران کے اہل خانہ اور ان کے اقارب نے بھی اپنے طور پر کوششیں تیز کردی ہیں۔ اس سلسلے میں عبداللہ العکر اور العویوی کو ایک نمونے کے طورپر پیش کیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ مغربی کنارے کے بعض علاقوں پر عارضی نگراں فلسطینی انتظامیہ نے بھی اپنے طورپر جیلیں بنا رکھی ہیں جن میں فلسطین کی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو ڈالا جاتا ہے۔ حالیہ کچھ ہفتوں سے فلسطینی جماعتوں حماس اور الفتح کے درمیان قومی مفاہمت کے لیے ہونے والے مذاکرات میں تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا عہد کیا گیا ہے تاہم عباس ملیشیا کےسیکیورٹی حکام اب بھی سیاسی کارکنوں کی رہائی میں تذبذب کا شکار ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
