فلسطینی اسیران اسٹیڈی سینٹر کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید تمام ارکان اسمبلی ماضی میں بھی اسرائیلی جیلوں میں قید کاٹ چکے ہیں۔ رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد انہیں دوبارہ حراست میں لیا گیا اور انہیں اب انتظامی قید میں رکھا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست محمد ابو طیر، یاسر منصور، محمود الرمحی، نزار رمضان، محمدماہر بدر، عبدالجابر فقہا، احمد عطون، محمد جمال النتشہ، حاتم قفیشہ، مروان البرغوثی اور احمد سعدات جبکہ وزیر عیسیٰ الجعبری بدستور انتظامی حراست میں ہیں۔
انسانی حقوق کے مندوب نے بتایا کہ صہیونی جیلوں میں زیرحراست تمام ارکان اسمبلی کسی نہ کسی مرض میں بھی متبلا ہیں لیکن اسرائیلی جیل حکام کی جانب سے نہ تو ان کی طبی طورپر دیکھ بحال کی جاتی ہے اور نہ ہی ان کےعزیزو اقارب کو ان سے ملاقات کی اجازت حاصل ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے سنہ 2006 ء میں فلسطین میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کی ٹکٹ پرکامیاب ہونے والے ارکان پارلیمنٹ کو حراست میں لینا شروع کیا تھا۔
پچھلے سال جون میں مقبوضہ مغربی کنارے سے تین یہودی آباد کاروں کے اغواء کے واقعے کے بعد قابض فوج نے فلسطینی ارکان پارلیمنٹ کی گرفتاری کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جس کے تحت دو درجن سے زائد ارکان کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں فلسطینی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر عزیز الدویک بھی شامل تھے۔ انہیں ایک سال تک انتظامی حراست میں رکھنے کے بعد حال ہی میں رہا کیا کیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
