اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران کے خلاف مظالم اور اسیران کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث نہ صرف اسیران سراپا احتجاج ہیں بلکہ ان کا غم وغصہ کسی بھی وقت کسی بڑے آتش فشاں کی شکل میں پھٹ سکتا ہے۔
اسیران کے غم وغصے میں اضافے کا تازہ واقعہ اتوار کے روزصہیونی جیل "نفحہ” کے اسیران پر قابض فوج کا تشدد قرار دیا جا رہا ہے۔ صہیونی فوج کے بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں کم سے کم ساٹھ فلسطینی اسیران شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
اسیران کے امور کے ماہر اور ممتاز فلسطینی تجزیہ نگار ریاض الاشقر نے مرکزاطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران کی قوت برداشت اور صبر کی تمام حدود ختم ہو چکی ہیں اور برادشت کی حد اب صفر رہ گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ جیلوں میں اسیران پر مظالم کے باعث حالات کسی آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ جیلوں میں اسرائیلی مظالم کےخلاف بغاوت اور نافرمانی کی تحریک چل پڑی ہے۔ اسیران نے اپنے خلاف مظالم اور سنگین نوعیت کی سزاؤں کے جواب میں اسیران نے بھوک ہڑتالیں اور احتجاج کے تمام دیگر پرامن راستے اختیار کرنا شروع کر دیے ہیں جوصہیونی مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے اور تحریک چلانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں ریاض الاشقر کا کہنا تھا کہ فلسطینی اسیران نے صہیونی مظالم کےخلاف اپنی احتجاجی تحریک کا آغاز ہفتے میں ایک روزہ ہڑتال سے کیا، بعد ازاں ہڑتال کا دورانیہ دو دن کر دیا گیا۔ یہ اسرائیلی انتظامیہ کے لیے ایک انتباہی اقدام تھا تاکہ اسیران کے مسلمہ عالمی حقوق کی فراہمی میں برتی جانے والی غفلت ختم کی جائے۔ لیکن اسیران نے جب دیکھا کہ ان کے جائز مطالبات ایک اور دو روزہ ہڑتال سے بھی پورے نہیں کیے جا رہے ہیں تو اسیران نے غیرمعینہ مدت کے لیے ہڑتالوں کا سلسلہ کر دیا۔
فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اسیران کے پاس اپنے جائز حقوق منوانے کے لیے احتجاج کے تمام پرآمن راستے اور آپشن موجود ہیں اور وہ اس وقت تک اسے استعمال کرنے کا عزم رکھتے ہیں جب تک کہ ان کے حقوق انہیں فراہم نہیں کر دیےجاتے۔ نفحہ جیل میں اسیران کا ڈی این اے ٹیسٹ حاصل کرنے کی صہیونی کوششوں نے اسیران کو سخت مشتعل کیا ہے۔
اتوار کے روزاسرائیلی فوجیوں اور اسیران کےدرمیان ہونے والی جھڑپوں میں اکسٹھ فلسطینیوں کا زخمی ہونا اسرائیل کو سخت مہنگا پڑے گا۔ اسیران کا ردعمل میں ڈی این اے یسٹ دینے میں عدم تعاون کرنا آئینی حق ہے، کیونکہ فلسطینی جانتے ہیں کہ صہیونی اس طرح کے ہتھکنڈوں کے پس پردہ کس طرح کے شرمناک مقاصد رکھتے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

