اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی مریض اسیران کے علاج کے لئے زائد المیعاد اور جعلی ادویہ کے استعمال کا ایک نیا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔
اسرائیل کی ایک جیل میں زیرحراست عمر قید کے سزایافتہ خالد مطاوع نے جیل میں ملنے والے انسانی حقوق کے ایک مندوب کو بتایا کہ اسے حال ہی میں بیماری کے دوران اسرائیلی ڈاکٹروں نے دوائی دی۔ اس میں سیرپ اور کیپسول دونوں طرح کی دوائی تھی۔ اس دوائی کے استعمال کرتے ہی جسم میں رعشہ طاری ہوگیا اور ایسے لگنے لگا جیسے کوئی طاقت ور نشہ آور چیز کھا لی گئی ہے۔ یہ کیفیت کئی گھنٹے تک طاری رہی۔ اسیر نے بتایا کہ دوائی کے منفی اثرات کے بارے میں صہیونی جیل انتظامیہ کو بتایا تو انہوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا بلکہ وہ اسی طرح کی جعلی، خراب اور زائد المیعاد ادویات دوسرے قیدیوں کو بھی برابر دیتے چلے جا رہے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کے کارکن نے جیل کے دیگر قیدیوں سے بھی معلوم کیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مریض اسیروں پر صہیونی جیلروں کی جانب سے جعلی ادویات کے تجربے کیے جاتے ہیں۔ ایک اسیر نے بتایا کہ اسرائیل میں یہودیوں کی دو ساز فرموں کی تیار کردہ دوائیوں کو بھی قیدیوں پر تجربے کے طورپر استعمال کیا جاتا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
