موسم سرما کی آمد کے ساتھ ساتھ صہیونی جیلروں نے اسیرات کو بنیادی حقوق حتیٰ کہ گرم کپڑے رکھنے سے بھی منع کر دیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کی بدنام زمانہ جیل "ھشارون” میں 15 فلسطینی خواتین زیرحراست ہیں جو دوران حراست بدترین مظالم کا سامنا کر رہی ہیں۔
فلسطینی وزارت اسیران و محررین کی جانب سے جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی جیل انتظامیہ دانستہ طور پر فلسطینی خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور ان کے حقوق کی سنگین پامالی کا مرتکب ہو رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ھشارون جیل میں سال ہا سال سے قید و بند کی صعوبتیں کاٹنے والی کئی خواتین کو ادنیٰ درجے کے انسانی حقوق بھی میسر نہیں ہیں۔
کئی خواتین مختلف نوعیت کی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں کیونکہ جیلروں کی جانب سے ان کے علاج معالجے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ جسمانی طور پر کمزور اور نقاہت کا شکار خواتین کو ان کی کوٹھڑیوں سے گھسیٹ کر باہر نکالا جاتا ہے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ھشارون جیل میں پابند سلاسل لینا الجربونی، منی قعدان، فداء شعبانی، نھیل ابو عیشہ، دنیا واکد، رسمیہ بلاونہ، سما زین الدین، فلسطین نجم، تحریر القنہ، وئام عصیدہ، شیریں العیساوی، بشریٰ الطویل، ھبہ ابوحاجہ، دیما سواحرہ اور ثریا بدستور پابند سلاسل ہیں جنہیں بنیادی انسانی حقوق میسر نہیں ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
