اسرائیلی جیل میں قید بیمار فلسطینی اسیر معتصم رداد کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی صحت ڈرامائی انداز سے خراب ہورہی ہے اور کینسر ان کے پورے جسم میں پھیل رہا ہے۔
اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی اسیران سے حمایت کے لئے منعقدہ ہفتہ وار دھرنے میں بیٹھی معتصم کی والدہ کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہیں بلند فشار خون اور ذیابیطس کا مرض بھی لاحق ہوگیا ہے اور اسکے علاوہ ان کو کمزوری نظر اور دل کے عارضہ بھی ہے۔
معتصم کی والدہ کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا اپنی بائیں ٹانگ اور بازو نہیں ہلا سکتا ہے۔ اسیر کی والدہ کا کہنا تھا کہ خرابی صحت کی وجہ سے ان کے بیٹے کو فوری طور پر رہا کرنے کی ضرورت ہے۔
طولکرم میں موجود ریڈ کراس کے مرکزی دفاتر کے باہر ہونے والے دھرنے میں فلسطینی گروہوں اوراسیران کے خاندانوں نے شرکت کی اور اپنے پیاروں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
اسی تناظر میں اسرائیلی جیل سروس نے بیمار اسیر 31 سالہ لیتھ سروجی کو سرجری کروانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔
سروجی کے خاندان نے احرار سنٹر کے ذریعے سے تمام انسانی حقوق کے اداروں اور ڈاکٹروں کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے بیٹے کی سرجری کروائیں۔ سروجی کے معدے میں شدید درد ہے جس کی وجہ سے وہ کچھ کھا نہیں سکتے ہیں۔
سروجی 2004ء سے اسرائیلی حراست میں قید ہیں اور انہیں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انہیں پچھلے نو ماہ سے طبی امداد فراہم نہیں کی گئی ہے حس کی وجہ سے ان کی صحت بہت زیادہ خراب ہورہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
