بھوک ہڑتالی اسیر عبداللہ البرغوثی پر عفولا ہسپتال میں اسرائیلی جیلرز کی جانب سے تشدد کیا گیا ہے۔ عبداللہ برغوثی کو طبیعت کی خرابی کی وجہ سے عفولا ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے گروہوں نے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ برغوثی 54 دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔
سوسائٹی برائے فلسطینی اسیران نے اتوار کے روز ایک بیان میں بتایا ہے کہ اسرائیلی جیلرز اردنی بھوک ہڑتالی اسیران پر دبائو ڈالنے کے لئے تمام تر ہتھکنڈے استعمال کررہے تھے تاکہ وہ بھوک ہڑتال ختم کردیں۔ انہی کوششوں میں سے ایک کوشش برغوثی پر حملہ بھی ہے۔ برغوثی انسانی تاریخ کی سب سے لمبی قید کی سزا یعنی 67 بار عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
سوسائٹی کے ایک وکیل نے برغوثی سے ملاقات کے بعد بتایا ہے کہ حملے کے بعد سے برغوثی کی حالت انتہائی خراب ہوگئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ بھوک ہڑتال کے نتیجے میں ان کا جگر مشکلات کا سامنا کررہا تھا۔
رام اللہ کے شمال میں بیت ریما گائوں سے تعلق رکھنے والے برغوثی اردنی قومیت کے حامل ہیں اور انہوں نے 2 مئی سے چار دیگر اردنی اسیران کے ہمراہ اسرائیلی جیل سے رہائی اور باقی سزا اردنی جیلوں میں کاٹنے کے لئے بھوک ہڑتال شروع کررکھی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
