مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق شہداء الاقصٰی بریگیڈ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دشمن کے ایجنٹ کی جیل سے رہائی ایک مجرمانہ اقدام ہے اور اسےفرار کرانے میں مدد کرنا اس سے بڑا اور سنگین جرم ہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی ایجنٹ ناصر ابو زیتون کو کچھ عرصہ پیشتر میں مغربی کنارے کے نابلس شہرسے حراست میں لیا گیا تھا۔ ملزم نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے جرم کا اعتراف کیا تھا۔ جرم کے ثابت ہونے کے بعد اسے پچیس سال قید بامشقت کی سزا کا حکم دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اسے رہا کردیا گیا، جس کے بعد وہ مغربی کنارے سے فرارہوگیا ہے۔
الاقصیٰ بریگیڈ کا کہنا ہے کہ دشمن کے لیے جاسوسی کرنے والے ایجنٹ کی رہائی قوم اور شہداء کے خون سے غداری کے مترادف ہے۔ دشمن کا ایجنٹ نہ صرف اسرائیل کے لیے جاسوسی کرتا رہا ہے بلکہ عسکری قائدین محمود الطیطی، عماد الخطیب اور کئی دوسرے شہداء کی شہادت میں بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ملوث رہا ہے۔ اس لیے اس کی معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیم نے دھمکی دی ہے کہ ناصر ابو زیتون کی رہائی اور فرار میں مدد کرانے والوں کو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
