اقصی فاؤنڈیشن نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے مسجد اقصی کے سامنے جبل زیتون کے علاقے میں ملٹری اکیڈمی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں نے مسجد اقصی کے اطراف گشت میں اضافہ کر دیا ہے
جس سے قبلہ اول کو لاحق خطرات بڑھ گئے ہیں۔ اسرائیلی فورسز کے اہلکاروں نے اسلحہ سے لیس ہوکر مسجد اقصی پر دھاوا بھی بولا جس سے حالات انتہائی کشدہ ہو گئے۔ اقصی فاؤنڈیشن برائے وقف و آثار قدیمہ نے منگل کے روز جاری اپنے بیان میں بتایا کہ صہیونی حکومت نے القدس شہر کے مختلف علاقوں میں چالیس خفیہ کیمرے نصب کرنے اور اسی طرح شہر کی اولڈ میونسپلٹی میں سیکڑوں کیمرے نصب کر دیے ہیں۔ مسجد اقصی کے دروازوں پر بھی جاسوسی کے آلات اور خفیہ کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں۔ قبلہ اول، اولڈ میونسپلٹی اور القدس کا سارا شہر اس وقت اسرائیلی خفیہ نگرانی میں ہے۔
فاؤنڈیشن نے خبردار کیا ہے کہ حال ہی میں مسجد اقصی کے انتہائی قریب اسرائیلی ملٹری اکیڈمی کے قیام کے بعد اسرائیل مسجد اقصی کو درپیش خطرات انتہائی شدید ہو گئے ہیں۔ اب آنے والا ہر دن اور ہر مرحلہ مسلمانوں کے اس تیسرے مقدس ترین مقام کے لیے مزید خطرناک ہوتا جائیگا۔
اقصی فاؤنڈیشن نے امت مسلمہ اور عرب دنیا سے اپیل کی کہ وہ اپنے قبلہ اول کی حفاظت کے لیے جلد متحرک ہوں۔ فاؤنڈیشن نے جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ اسرائلی فوجی گروپ فوجی وردیوں اور اسلحہ سے لیس ہوکر مسجد اقصی پر حملہ آور ہوئے۔ منگل کی علی الصبح پچھتر کے قریب اسرائیلی مرد و خواتین فوجی عسکری سازوسامان کے ساتھ مسجد اقصی میں داخل ہوئے اورکئی گھنٹے یہیں موجود رہے۔ اسرائیلی فوج کے متعدد دستے بار بار مسجد اقصی میں داخل ہوتے رہے۔ صہیونی خفیہ اہلکار بھی گاہے بگاہے مسجد میں داخل ہوکر حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اسرائیلی فوجی اہلکار مسجد اقصی کے مختلف حصوں میں تقسیم ہوکر اپنی مجلسیں منعقد کر رہے ہیں۔ صہیونی اہلکاروں کے یہ گروہ بحث و مباحثے کی مجلسیں بھی مسجد میں ہی منعقد کر رہے ہیں۔ صہیونی اہلکاروں کی موجودگی میں دوسری طرف یہودی آباد کار بھی مسلسل مسجد اقصی میں داخل ہو کر رقص و سرور پر مبنی تلمودی عبادات کی ادائیگی کر رہے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
