مرکزاطلاعات فلسطین نے اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ خفیہ ادارے”شاباک” کا ایک سینیرافسر جسے ملازمت سے سبکدوش ہوئے ابھی چند دن ہوئے ہیں نے خود کو گولی ماردی جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔
اسرائیلی اخبارات کے مطابق یہ واقعہ مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کے ھود ھشارون کے مقام پر پیش آیا۔ خود کشی کرنے سے ایک روز پہلے یہودی انٹیلی جنس عہدیدار نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ”فیس بک” پر کچھ بیانات پوسٹ کیے تھے، جن کے جواب میں اس پر ایک ایتھوپیائی نسل کی یہودی خاتون کے ساتھ بدسلوکی اور اس کے ساتھ نسل پرستانہ سلوک کا الزام عاید کیا گیا تھا۔
ان الزامات نے یہودی انٹیلی جنس افسر کو اس قدر افسردہ کیا کہ اس نے پستول اٹھائی اور اپنے سرمیں گولی ماردی۔
"شاباک” کے سابق انٹیلی جنس چیف یووال ڈیسکین نے خود کشی کرنے والے اہلکار کے بارے میں کہا ہے کہ وہ ایک سینیر افسر تھا۔ اس نے بیس سال تک خفیہ ادارے میں اعلیٰ عہدوں پر کام کیا اور کئی ایک اہم نوعیت کے انٹیلی جنس آپریشنز میں بھی اس نے حصہ لیا۔ تاہم خود کشی کرنے والے اہلکار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
