القدس کی سپریم اسلامک کونسل کے رکن اور معروف مذہبی رہنما شیخ جمیل حمامی نے مشرقی القدس کو یہودیانے بالخصوص مسجد اقصی پر حملوں میں ہونے والی تیزی سے خبردار کیا ہے۔
ماہ رواں کی بائیس تاریخ کو ہونے والے صہیونی انتخابات جوں جوں قریب آ رہے ہیں اسرائیلی فورسز کی مقبوضہ مشرقی القدس کی کالونیوں پر چھاپہ مار کارروائیاں اور فلسطینیوں کی گرفتاریاں بھی تیز ہوتی جا رہی ہیں۔
شیخ جمیل حمامی نے ”مرکز اطلاعات فلسطین” کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اہالیان القدس کو ان کے گھروں میں بند کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اس شہر کے باسیوں کے زندگی کی گزارنے کی راہیں تنگ کر دی ہیں، انتخابات کا میدان گرم ہوتے ہی اسرائیل نے قبلہ اول کے اطراف پھیلے اس شہر میں فلسطینیوں کی املاک اور اراضی ہتھیانے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ جیسے ہی انتخابات کا بخار شدید ہوتا جا رہا ہے اسرائیل اپنی جارحیتوں میں اضافہ کرتا جا رہا ہے۔ صہیونی سیاسی جماعتیں فلسطینی قوم اور مسجد اقصی پر حملوں کو ہی انتخابات میں کامیابی کی کنجی قرار دے رہی ہیں۔
شیخ حمامی نے کہا کہ اس وقت مسجد اقصی شدید خطرے میں ہے جس کی حفاظت کے لیے عرب اور اسلامی دنیا کے رہنماؤں کو سنجیدگی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اپنی دینی اور تاریخی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا ہو گا۔ قبلہ اول کیخلاف اسرائیلی منصوبوں کو ناکام بنانا ساری امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مسجد اقصی کی حفاظت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کو اپنے قبلہ اول پر کیے جانے والے ہر حملے کا بھرپور دفاع کرنا چاہیے۔
انہو ں نے زور دیا کہ حالیہ عرب اور اسلامی انقلابات کے تناظر میں امت مسلمہ پر لازم ہے کہ تمام قومی مسائل پر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔ مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام پر یہودی آباد کاروں کے دھاوں کے تسلسل پر شیخ محامی نے کہا کہ انتہاء پسند یہودیوں کو مسجد پر حملے کرنے میں اسرائیلی حکومت اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسی کے مختلف ونگز کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔
فلسطینی مذہبی رہنما شیخ حمامی نے خبردارکیا کہ اسرائیلی حکومت حالیہ دنوں مسجد اقصی کو زمانے اور مکان کے اعتبار سے یہودیوں اورمسلمانوں میں تقسیم کرنے کے بھیانک منصوبے پر عمل درآمدکی کوشش کر رہا ہے۔ ہر مسلمان اسرائیل کے ان منصوبوں کو انتہائی خطرناک قرار دے رہا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
